ایک بہرہ سبق آموز کہانی
Urdu Moral Stories | Urdu Stories | Hindi Kahaniyan
ایک شخص بیحد بہرہ تھا اس کا پڑوسی بیمار ہو گیا لوگ دور دور سے اس کی بیمار پرسی کے لیے انے لگے بہرے کو معلوم ہوا تو اس نے سوچا بیمار پرسی مسنون ہے مجھے بھی جانا چاہیے مگر مشکل یہ ہے کہ وہ بیمار ہے اور میں بہہ رہا ہوں وہ بات اہستہ کرے گا اور میں سن نہیں سکوں گا پھر میں کیا کروں اخر اس نے سوچا کہ بیمار پرسی کا ایک مخصوص طریقہ ہے اور باتیں بھی مقرر ہیں جو اس موقع پر کی جاتی ہیں بیمار پرسی کے لیے جائیے تو بیمار سے پہلا سوال یہی کیا جاتا ہے کہ اب اپ کیسے ہیں تو بیمار یہی جواب دیتا ہے کہ پہلے سے اچھا ہوں میں بھی پہلے یہی پوچھوں گا کہ اب اپ کیسے ہیں تو وہ یہی جواب دے گا کہ میں پہلے سے اچھا ہوں تو میں کہوں گا خدا کا ہزار بار شکر ہے پھر دوسرا سوال جو بیمار سے کیا جاتا ہے وہ یہ ہوتا ہے کہ کس طبیب کا علاج کرا رہے ہو تو بیمار کسی قابل طبیب کا نام لیتا ہے میں بھی دوسرا سوال یہی کروں گا کہ کس طبیب کا علاج کرا رہے ہو تو وہ کسی قابل طبیب کا نام لے گا میں کہہ دوں گا واقعی وہ بڑا ہی قابل طبیب ہے اس کا علاج جاری رکھنا پھر غذا کے متعلق پوچھا جاتا ہے کہ خوراک کیا ہے تو بیمار اکثر کسی نرم غذا کھچڑی وغیرہ کا نام لیتا ہے میں بھی غذا کا پوچھوں گا تو وہ کسی نرم غذا ہی کا بتائے گا میں کہہ دوں گا ماشاءاللہ بڑی اچھی غذا ہے یہی کھاتے رہو یہ سوال و جواب خود ہی اپنے دل میں سوچ کر بہرا بیمار کے پاس پہنچا اس وقت بیمار بڑی تکلیف میں تھا بہرے نے پوچھا کیا حال ہے اور اپ اب کیسے ہیں بیمار جو بڑا تنگ تھا کہنے لگا مر رہا ہوں بہرے نے کہا خدا کا ہزار بار شکر ہے بیمار یہ جملہ سن کر حیران ہوا کہ اس نے یہ کیا کہا بہرے نے پھر پوچھا کہ کس طبیب کا علاج کرا رہے ہو بیمار نے جواب دیا ملک الموت کا بہرے نے کہا واقعی یہ بڑا ہی قابل طبیب ہے جس نے بھی اس سے علاج کرایا ہے اس کی تکلیف جاتی رہی اس کا علاج جاری رکھنا اب تو بیمار غصے میں اگیا کہ یہ شخص میری بیمار پرسی کے لیے ایا ہے یا مجھے مار ڈالنے کے لیے بہرے نے پوچھا کہ کھاتے کیا ہیں اپ بیمار نے غصے میں جواب دیا زہر بہرا بولا واہ واہ بڑی اچھی غذا ہے یہ ہر روز کھائیے ناغہ نہ کیجئے انشاءاللہ اس غذا سے تکلیفیں جاتی رہیں گی اب تو بیمار سخت غصے میں اگیا اور بہرے سے چلا کر کہا نکل جاؤ ابھی میرے گھر سے اور اسے گھر سے نکال دیا اور کہا مہربانی فرما کر ائندہ میرے گھر ہرگز تشریف لانے کی تکلیف نہ فرمائیے
خلاصہ
مولانا روم علیہ رحمہ فرماتے ہیں دین سے بہرہ انسان اس بہرے کی مانند ہے جو مسنون طریقہ ادا کرنے اور بیمار کو خوش کرنے کے لیے گیا لیکن اپنی جہالت سے اسے ناراض کر کے واپس ایا اسی طرح اج کل کے مسلمان مسجد میں جاتے ہیں تاکہ فرض ادا کریں اور اللہ تعالی کو راضی کریں لیکن نماز پڑھنے کا طریقہ نہیں اتا انہیں نماز میں جو کچھ پڑھا جاتا ہے وہ صحیح یاد نہیں ہوتا اور یہ نماز پڑھنے اور خدا کو راضی کرنے کے لیے مسجد جاتے ہیں مگر اپنی غلط سلط نماز سے صحیح ارکان اور صحیح الفاظ ادا نہ کر کے بجائے خدا کو راضی کرنے کے اسے ناراض کرتے ہیں اور لوٹتے ہیں


0 Comments