Who Was Ilbay Alp | Biography Of Ilbay Alp | Kurulus Osman 178 Bolum

Who Was Ilbay Alp | Ilbay Alp History | Ilbay Alp In Kurulus Osman

Ilbay bey history


Ilbay Alp In Kurulus Osman



 اپ سب کو خوش امدید میری اج کی پوسٹ پر سلطنت عثمانیہ کا ایک بہت ہی قابل اور تاریخی جنگجو کے بارے میں ہے جن کی اہمیت سلطنت عثمانیہ کی تاریخ میں کسی بھی طرح کونور الپ بھی اکچا کوجا سے کم نہیں تھی اور اس جنگجو کا نام ہے حاجی البائےاور ناظرین کرام اج کی پوسٹ میں ہم جانے گے انکا اصل نام کیا تھا اور یہ کہا کہ رہنے والے تھے کاراسی سلطنت کو چھوڑ کر حاجی البائے نے اور ہان بے کے اطاعت کیوں قبول کی اور اس کے علاوہ اخر میں بات کریں گے حاجی البائے کے دردناک موت کے بارے میں کہ اتنے عظیم الشان جنگجو کو کس غدار نے دھوکے سے کیسے قتل کیا تو ائیے چلتے ہیں 

ilbay bey son



Ilbay Alp Real Name :

اج کی تاریخی پوسٹ کی طرف تو ناظرین کرام حاجی البائے کو حاجی علبائے بھی کہا جاتا ہے اور ان کا ابھی تک اصل نام معلوم نہیں حا جی البائے ان کا خطاب تھا جو کہ انہیں اعزاز کے طور پر دیا گیا تھا ان کی تاریخ 15ویں اور سولویں صدی میں لکھی گئی کتابوں میں موجود ہے لیکن یہ پوسٹ  بنانے کے لیے میں نے ترکی کے مشہور مورخ عبدالقادر اوزگان کے لکھی گئی تاریخ سے مدد لی ہے تو ناظرین کرام 

is ilbay traitor


Ilbay Born In Karasi Empire:

البائے کراسی عمارت سے تعلق رکھتے تھے اور وہی کے رہنے والے تھے کراسی عمارت جو کہ 1303 میں قائم ہونے والی ترک عمارت تھی تو حاجی البائے 1305 میں اس عمارت میں بلک شہر میں پیدا ہوئے کراسی عمارت بلک شہر سے چنا کلے کے درمیان اج جو علاقہ ترکی میں موجود ہے یہاں واقع تھی اور ایک ترک سلجو کی سردار کارہ عیسی بے نےقائم کی تھی جو کہ ترکوں کے دانشمند خاندان سے تعلق رکھتے تھے تو بات ہو رہی تھی

Why Ilbay Joined Ottoman Empire:

 حاجی البائے کی جو کہ اسی کارا سے عمارت کی ایک وزیر تھے سوال یہ ہے کہ یہ عثمانی عمارت میں کیسے ائے اور کیوں انہوں نے عثمان سلطنت کے لیے خدمات سر انجام دی تو اس بارے میں ناظرین کرام تاریخ بتاتی ہے کہ حاجی البائے نے عثمانی عمارت کے لیے تب خدمات سرانجام دی جب کاراسی عمارت پر عثمانیہ نے قبضہ کر لیا تھا اور اسے اپنی سلطنت میں شامل کر لیا تھا اور ایسا تب ہوا جب کراسی بےکی وفات کے بعد یہ عمارت دو حصوں میں تقسیم ہو گئی ایک حصے کا دارالحکومت بلیک شہر تھا اور دوسرے کا دارالحکومت برغمہ نامی علاقہ تھا بلک شہر اور اس کے اس پاس کے علاقوں پر کراچی بے کے بیٹے دمیر خان کی حکومت تھی جبکہ برغمہ اور اس کے اس پاس کے علاقوں پر عیاشی بے کا قبضہ تھا ناظرین کرام کراسی کے بیٹے دمیر خان کو عثمانی سلطان اور خان غازی نے 1345 میں شکست دی اور اس کے بعد کراسی امارات کے ادھے حصے کو اپنی سلطنت میں شامل کر لیا تھا لیکن کچھ تاریخ دانوں کے نزدیک دمیر خان بے نے عثمانیوں کے ساتھ اپنی مرضی سے اتحاد کیا تھا کراسی عمارت کا دوسرا حصہ جس کا دارالحکومت برگامہ تھا اور جس پر عیاشی بے گی حکومت تھی تو کراسی عمارت کے اس ٹکڑے کو عثمانیوں نے 1356 میں اپنے کنٹرول میں لے لیا تھا اور اس طرح پورے کے پورے کاراسی عمارت کا خاتمہ ہو گیا  ـ اور یہ ترکوں کی وہ عمارت تھی جو سب سے کم عرصے کے لیے قائم رہی اور اس کے خاتمے کے بعد کاراسی عمارت کے بڑے بڑے فوجی کمانڈر مثلا حاجی البائے ایبرا یورنوس بے لالاخلیل اور غازی فاضل وغیرہ عثمانیوں کی نگرانی میں جنگی خدمات سرانجام دینے لگے اور انہوں نے اور ہان بے کی اطاعت قبول کر لی تو ان جنگجوؤں میں سے بات ہو رہی ہے  جسے ہم حاجی الوائے بھی کہتے ہیں تو حاجی البائے نے عثمانی سلطنت کی وفاداری کا حلف اٹھا کر سب سے پہلا کارنامہ جو انجام دیا وہ یہ تھا کہ عثمانک کافی عرصے سے گیلی پولی کے علاقے پر قبضہ کرنے کی کوشش کر رہے تھے لیکن ناکام رہے حا جی البائے چونکہ کاراسی عمارت میں وزیر تھے تو وہ ان راستوں سے اچھی طرح واقف تھے کیونکہ کاراسی عمارت کی حکمرانی سمندروں پر بھی تھی اور یہ بحری جنگیں لڑنے میں بہت ماہر تھے جبکہ کیلی پولی تو تھا ہی ایک ساحلی علاقہ تو حاجی البائے نے اس وقت اور خان غازی کے بیٹے شہزادہ سلیمان پاشاہ جو کہ اور خان غازی کے حکم سے کاراسی عمارت جن علاقوں پر قائم تھی تو عثمانی سلطنت میں ان کے شامل ہو جانے کے بعد ان علاقوں کے گورنر بنا دیے گئے تھے تو حا جی البائے  نے ان منایا کہ رومیلیا کو کراس کر کے ان علاقوں پر حملہ کیا جائے اور یوں حا جی البائے گیلی پولی اور تھریس کے علاقوں کی فتح کو اپنی بہادری اور ذہانت دکھا کر اسے ممکن بنایا اور ناظرین کرام یہ حا جی البائے  تھے جنہوں نے کون حسار قلع فتح کیا تھا جو کہ کیلیپولی کے شمال مشرق میں تھا اور اس فتح کے بعد وہ اس قلعے کے حکمران بنا دیے گئے یوں کانر حسار قلعے کو ملٹری بیس بنا کر حاجی علبائے نے مالکارا اور اس پالہ کے علاقوں کی فتح میں اہم کردار ادا کیا لیکن ناظرین کرام 1357 میں شہزادہ سلیمان پاشاہ کی وفات ہو گئی جو کہ شکار کے دوران اپنے گھوڑے سے گر کر وفات پا گئے تھے اس کے کچھ عرصے بعد اور ہان غازی نے بازنطینی سلطنت سے صلح کر لی جس کے بعد عثمانیوں کی طرف  ان علاقوں کی فتوحات میں نرمی کی جانے لگی لیکن اس وقت یہ حا جی البائے  تھے جنہوں نے ایورنوس اور لالا شاہین پاشاہ کے ساتھ مل کر عثمانیوں کے حوصلوں کو بلند کیا اس کے بعد 1359 میں جب ادھرنے کا محاصرہ شروع ہوا تو حا جی البائے  نے اس محاصرے کے دوران ادھرنے کی فتح کو اسان بنانے کے لیے برگوز کا علاقہ فتح کر کے میں توکہ پر بھی قبضہ کر لیا

اور یوں ادرنے کو جانے والی سپلائی لائن کاٹ دی لیکن اس دوران اور خان غازی کا انتقال ہو گیا اور عثمان سلطنت کے تخت پر ان کے بیٹے سلطان مراد اول کا دور حکومت شروع ہو گیا اور سلطان مراد اول نے ایورینوس لالہ شاہین اور حا جی البائے  کی مدد سے محاصرے کے دوران اس شہر پر دباؤ ڈالنا جاری رکھائیں دستے کے کمانڈر تھے انہوں نے اپنی کمانڈ میں موجود فوج کے ساتھ ادھرنے پر مارچ کیا اور اس کی فتح کو یقینی بنایا عثمان تاریخ کے مطابق حاجی البائے کا ایک اور کارنامہ یہ بھی تھا کہ انہوں نے ایک جنگ جس کا نام زندگی بیڈل اف سرفیہ تھا اس میں سلیبی فوجوں کا شکست دی تھی اس نام کا مطلب ہے وہ جنگ جس میں سربیوں کو شکست ہوئی اور ناظرین کرام اس جنگ کا مکمل واقعہ یہ ہے کہ ادھرنے کی فتح کے بعد لالا شاہین پاشاہ کو ادھرنے کا گورنر بنا دیا گیا تو انہیں یہ خبر ملی کہ ہنگری کا بادشاہ جس کا نام کنگ لائوش اول ہے وہ ادھرنے کو دوبارہ لینے ا رہا ہے کیونکہ بازنطینی اور یورپیوں کو یہ ڈر ہو گیا تھا کہ عثمانی بلکان کو تیزی سے فتح کر رہے ہیں تو انہوں نے 60 ہزار جنگجوں کی ایک صلیبی فوج تیار کی جس میں ہنگری سربیا اور بلغاریہ کے جنگجو تھے اور یہ تمام فوج ہنگری کے بادشاہ کے کمانڈ میں تھی لالا شاہین پاشاہ یہ سن کر گھبرا گئے اور سلطان مراد اول کو خبر کی جو کہ اس وقت برسا میں تھے سلطان مراد کو فوری طور پر یہ خبر پہنچائی گئی اور انہوں نے بھی اطلاع ملتے ہی فورا ایک بڑی فوج روانہ کی مگر وہ فوج یورپی علاقوں کو کراس نہ کر سکی کیونکہ وینس کے ریاست نے ایک ابی گزرگاہ جس کا نام داردہ نیلز ہے اس طرف سے راستہ بند کر رکھا تھا تو لالا شاہین پاشاہ نے حا جی البائے  کو اٹھ سے 10 ہزار عثمانی سپاہیوں کی فوج دے کر دشمن کے خلاف بھیجاحا جی البائے  نے اس  فوج کو تب جا لیا جب وہ بہت تیزی سے اگے بڑھ رہی تھی اور میرج نام کا دریا پار کر چکی تھی تو ایک رات حا جی البائے  نے رات کی تاریکی کا فائدہ اٹھا کر اس فوج پر حملہ کیا اور صلیبی اس اچانک حملے سے اس قدر گھبرا گئے کہ انہیں شکست ہو گئی اور ان میں سے اکثر مارے گئے تو اس طرح سلطنت عثمانیہ پر سے ایک بھرپور دشمن کے حملے کا خطرہ ٹل گیا لیکن ناظرین کرام اس فتح اور جنگ کے بارے میں عثمانی اور مغربی تاریخ میں اختلاف ہے عثمانی تاریخ کے مطابق یہ واقعہ 1364 کا ہے جبکہ مغربی تاریخ تانہ کے مطابق یہ واقعہ 1371 عیسوی کا ہے لیکن مغربی تاریخ دان اس معاملے میں غلط لگتے ہیں کیونکہ 1364 میں ہی حا جی البائے کی 

شہادت ہو چکی تھی 

ilbay alp daughter
ilbay alp faimly


How Ilbay Alp Died | Ilbay Alp Death 


اور اب اتے ہیں ان کی وفات کی طرف تو ناظرین کرام ان کی زندگی کی طرح ان کی وفات کی تاریخ بھی بہت حیران کن ہے اور اس کے ساتھ ساتھ پراسرار بھی ان کی موت کے بارے میں کافی شک و شبہ پایا جاتا ہے کیونکہ ان کی وفات کے بارے میں تاریخ میں یہ موجود ہے کہ وہ زہر کھانے سے ہوئی تھی اور حالات کچھ یہ بنے کہ وہ صلیبی اتحاد جس کے انے کی خبر سن کر لالا شاہین پاشاہ پریشان ہو گئے تھے توحا جی البائے نے ان صلیبی کے خلاف چھاپہ مار کاروائی کر کے خود کو ایک قابل اور ماہر کمانڈر کے طور پر ثابت کیا اس وجہ سے حا جی البائے  کا اس وقت کے سلطان مراد اول کی نظر میں ایک اونچا مقام مل گیا جس پر لالا شاہین پاشاہ کے دل میں حسد کی کیفیت پیدا ہو گئی اور یہ سن کر اپ لوگ حیران ہوں گے کہ کہا جاتا ہے کہ حا جی البائے  کو لالا شاہین پاشاہ نے زہر دیا تھا اور یوں 1364 میں ان کی وفات ہو گئی تو ناظرین کرام حا جی البائے  عثمانی  تاریخ میں افسانوی پہچان رکھتے ہیں اور انہںیں نے بھی کونور بےاکچاکوجا  کارا علی اور عبدالرحمن غازی کی طرح دو عثمانی سلاطین کے لیے فتوحات کی اور عثمان تاریخ میں اپنا نام امر کر دیا حا جی البائے  عثمان تاریخ دانوں کے نزدیک فاتح رومیلیہ کہلواتے ہیں تو ناظرین کرام یہ تو تھی ان کی زندگی کی مکمل تاریخ اپ لوگوں کو یہ تاریخ کیسی لگی مجھے کمنٹس میں ضرور بتائیے گا شکریہ  

Post a Comment

0 Comments