Muslim Ummah Hero Mohamed Morsi History, Biography,

Muslim Ummah Hero Mohamed Morsi History, Biography,

Mohamed Morsi History Biography
Mohamed Morsi Biography 



غیرت مند وزیراعظم 

 

محمد مرسی عالم اسلام کے ایسے شیر لیڈر جن کو اپنوں نے غیروں کیساتھ مل کر قتل کیا۔ ان کا قصور یہ تھا کہ اسرائیل نے جب غزہ میں معصوم فلسطینیوں پر حملے تیز کر دیے، تو محمد مرسی نے فوری طور پر اسرائیلی حکومت کو وارننگ دی اور کہا:

"ہم فلسطینیوں کو اکیلا نہیں چھوڑیں گے۔ اگر اسرائیل نے حملے بند نہ کیے تو نتائج کی ذمہ داری اس پر ہوگی۔"

یہ پہلا موقع تھا جب کسی عرب رہنما نے اسرائیل کو براہِ راست دھمکی دی تھی۔ محمد مرسی، مصر کے پہلے جمہوری طور پر منتخب ہونے والے صدر تھے، جنہیں 2012 میں عہدہ سنبھالنے کے بعد عالمی سطح پر ایک خوددار اور اصولی رہنما کے طور پر پہچانا گیا۔ ان کے دورِ صدارت میں کئی ایسے مواقع آئے جب انہوں نے قومی وقار اور خودداری کا مظاہرہ کیا۔ ان میں سے ایک واقعہ فلسطین اور اسرائیل کے درمیان تنازع کے دوران پیش آیا، جب انہوں نے اسرائیل کو سخت پیغام دیا اور فلسطینی عوام کے حق میں جرات مندانہ مؤقف اختیار کیا۔‏2012 میں جب اسرائیل نے غزہ پر شدید بمباری شروع کی، تو فلسطینی عوام شدید مشکلات کا شکار ہو گئے۔ دنیا کے بیشتر ممالک خاموش تماشائی بنے ہوئے تھے، جبکہ مصر میں صدر محمد مرسی نئے نئے اقتدار میں آئے تھے۔ ان سے توقع کی جا رہی تھی کہ وہ بھی ماضی کے حکمرانوں کی طرح خاموشی اختیار کریں گے، لیکن انہوں نے ایک حیران کن ردعمل دیا۔ اسرائیل نے جب غزہ میں معصوم فلسطینیوں پر حملے تیز کر دیے، تو محمد مرسی نے فوری طور پر اسرائیلی حکومت کو وارننگ دی اور کہا

:ہم فلسطینیوں کو اکیلا نہیں چھوڑیں گے

"ہم فلسطینیوں کو اکیلا نہیں چھوڑیں گے۔ اگر اسرائیل نے حملے بند نہ کیے تو نتائج کی ذمہ داری اس پر ہوگی۔"

یہ پہلا موقع تھا جب کسی عرب رہنما نے اسرائیل کو براہِ راست دھمکی دی تھی۔ محمد مرسی نے اسرائیلی حملوں کے فوراً بعد مصری حکام کو حکم دیا کہ غزہ کے ساتھ رفح کی سرحد کھول دی جائے، تاکہ زخمی فلسطینیوں کو طبی امداد دی جا سکے اور ضروری سامان ان تک پہنچایا جا سکے۔ یہ اقدام فلسطینی عوام کے لیے ایک بہت بڑا ریلیف تھا، کیونکہ ماضی میں مصری حکومتیں اسرائیل کے دباؤ میں آ کر سرحدیں بند رکھتی تھیں۔ جب محمد مرسی نے اسرائیل کے خلاف سخت مؤقف اپنایا، تو مغربی ممالک میں تشویش کی لہر دوڑ گئی۔ امریکہ اور یورپی یونین نے مصر پر سفارتی دباؤ ڈالنے کی کوشش کی کہ وہ اسرائیل سے تنازع میں نہ الجھے۔ لیکن مرسی نے واضح طور پر کہا

:دشمن کے لئیے واضح پیغام

"ہم کسی سے ڈکٹیشن نہیں لیں گے۔ مصر اب آزاد ملک ہے اور ہم اپنے فیصلے خود کریں گے۔"

مرسی کے اس جرات مندانہ اقدام کے بعد ترکی کے صدر رجب طیب اردوان اور دیگر مسلم رہنماؤں نے بھی ان کی حمایت کا اعلان کیا۔ کئی عرب ممالک نے بھی اسرائیل کے خلاف سخت ردعمل دینا شروع کر دیا، جس کی وجہ سے اسرائیل عالمی دباؤ کا شکار ہونے لگا۔جب غزہ پر بمباری بڑھ گئی، تو محمد مرسی نے اعلان کیا کہ وہ خود غزہ کا دورہ کریں گے تاکہ فلسطینی عوام کے ساتھ یکجہتی کا مظاہرہ کیا جا سکے۔ یہ سن کر اسرائیلی حکومت میں کھلبلی مچ گئی، کیونکہ اگر ایک مصری صدر براہِ راست غزہ پہنچ جاتا، تو یہ اسرائیل کے لیے بڑی سفارتی شکست ہوتی۔محمد مرسی کی مسلسل سفارتی کوششوں اور سخت موقف کے باعث بالآخر اسرائیل جنگ بندی پر مجبور ہو گیا۔ اسرائیلی حکام نے امریکہ سے درخواست کی کہ وہ مصر کو ثالثی کے لیے راضی کرے، کیونکہ انہیں احساس ہو چکا تھا کہ مرسی کی قیادت میں مصر اسرائیل کے خلاف بڑا اقدام اٹھا سکتا ہے۔محمد مرسی کے اس سخت مؤقف کے بعد مغربی دنیا اور اسرائیل ان کے خلاف ہو گئے۔ انہیں اپنے اقتدار میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، کیونکہ عالمی طاقتیں نہیں چاہتی تھیں کہ کوئی عرب ملک اس قدر آزادانہ فیصلے کرے۔ یہی وجہ تھی کہ ایک سال بعد 2013 میں فوجی بغاوت کے ذریعے انہیں اقتدار سے ہٹا دیا گیا اور عبدالفتاح السیسی کو اقتدار میں لایا گیا، جو مغربی ممالک اور اسرائیل کے زیادہ قریب تھے۔محمد مرسی کو فوجی بغاوت کے بعد جیل میں ڈال دیا گیا، اور ان پر مختلف مقدمات بنا کر انہیں سزا دی گئی۔ انہیں قیدِ تنہائی میں رکھا گیا اور ان کے بنیادی انسانی حقوق بھی پامال کیے گئے۔ 2019 میں قید کے دوران عدالت میں ہی ان کی طبیعت بگڑ گئی، اور وہ انتقال کر گئے۔محمد مرسی آج بھی فلسطینی عوام اور امتِ مسلمہ کے ایک جرات مند رہنما کے طور پر یاد کیے جاتے ہیں۔ ان کی قیادت نے ثابت کیا کہ اگر کوئی حکمران اپنی قوم کے مفادات کے لیے ڈٹ جائے، تو وہ عالمی طاقتوں کو بھی چیلنج کر سکتا ہے۔ ان کا یہ واقعہ تاریخ میں ایک غیر معمولی مثال کے طور پر ہمیشہ زندہ رہے گا

 


Post a Comment

0 Comments